تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تخت بھائی میں اسٹورز میں ادویات موجود مگر عوام کیلئے ناپید

0
43
تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تخت بھائی میں اسٹورز میں ادویات موجود مگر عوام کیلئے ناپید
7

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تخت بھائی کے اسٹورز میں ایمرجنسی ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں مگر آنے والے مریضوں کیلئے ناپید ہے۔ گزشتہ روز حادثے میں زخمی دو بچوں کو ہسپتال لایا گیا مگر ہسپتال کے ایمرجنسی میں موجود عملے نے اسٹورز میں ادویات موجود ہونے کے باوجود تیمارداروں کو ایمرجنسی ادویات لانے کیلئے پرائیویٹ میڈیکل اسٹورز بھیج دیا۔ تحصیل تخت بھائی کے سب سے بڑے ہسپتال میں ایمرجنسی ادویات کی عدم دستیابی نے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ صحت کے حوالے سے حکومت بڑے بڑے دعوے تو کرتی نظر آتی ہے لیکن جب زمینی حقائق دیکھے جائیں تو تمام دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 21 ستمبر 2020 کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال تخت بھائی انتظامیہ نے شاہ نور پل تخت بھائی کے رہائشی بچی جویریا کو خون کی عطیہ دینے کیلئے آنے والے صحافی مرسلین خان کی بلڈ سکریننگ کی غرض سے کچھ ٹیسٹ ہسپتال میں موجود لیباٹری میں کیے تھے مگر سہولیات موجود ہونے کے باوجود لیبارٹری انتظامیہ نے اپنی کمیشن نکالنے کیلئے اس کے ساتھ ساتھ کئی مریضوں کو فرسٹ ایڈ کی ادویات لانے کیلئے پرائیویٹ میڈیکل سٹورز اور پرائیویٹ لیبارٹری (اعزاز میڈیکل لیبارٹری) بھیج دیا تھا۔ جس کی شکایت وزیر صحت خیبر پختونخوا تیمور سلیم خان جھگڑا کو کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ سیٹزن پورٹل پر بھی شکایت کی گئی تھی۔ شکایت
(KP210920-87340997)

ہیلتھ سیکرٹری خیبر پختونخوا کو تفویض کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ تحریک تحفظ تحصیل تخت بھائی کے چیئرمین عبد الستار تاجک نے بھی متعلقہ حکام سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو مافیا سے نجات دلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دن دو بجے کے بعد ہسپتال میں زیادہ تر ڈیپارٹمنٹس بند ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا تھا کہ مریضوں کو پشاور اور مردان منتقل کیا جاتا ہے۔ ہسپتال کا ایم ایس ڈاکٹر کچکول بے بس ہے۔ ہسپتال کے کلاس فور مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تخت بھائی کی انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here