ہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں تعلیم سے محروم

0
47
girls education
girls education

سوات تحصیل مٹہ کے سب سے بڑی یونین کونسل چپریال جسکی ابادی سولہ ہزار سے زیادہ ہے ،وہاں پہ ہائی سکول نہ ہونے کہ وجہ سے بہت سی بچیاں تعلیم سے محروم ہے

،یہ طلبہ پندرہ اور بیس کلو میٹر دور مٹہ تک تعلیم کے حصول کے لئے اتی تو ہے میٹرک تک یہاں تعلیم حاصل کرلیتے ہیں،اگے جب ہائی سکینڈری سکول میں جانا ہوتا ہے تو پھر انکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ایک تو اگر یہ مٹہ اتی بھی ہیں تو انکو گاڑیوں کا کریہ دینا ہوتا ہے دوسری بات یہ کہ ہر کوئی اتنا نہیں کرسکتا،کہ ہزار اور پندرہ سو دہ ماہانہ کرایہ گاڑیوں میں دیں

اس علاقے کے چپریال سے تعلق رکھنی والی چالیس سالہ بیوہ روقیہ تعلیم حاصل نہ کرنے پر بہت زیادہ افسوس کرتی ہے ۔رضیہ کے چار بچے ہیں رضیہ کے مطابق میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرنے کے بعد، انکے گاوں میں پھر اگے تعلیم حا صل کرنے کے لیے کوئی ہائی سکینڈری کالج موجود نہیں تھا کہ وہ داخلہ لیکر تعلیم جاری رکھتی ۔ پھر انکی والدین نے انکی شادی کرادی شادی کے شادی کے کچھ ا عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا۔ ان پر مصیبتوں کی پہاڑ ٹوٹ پڑیں۔ انہوں نے دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ،انہوں نے کہا کہ اگر میں نے اگے تعلیم حاصل کی ہوتی تو اج شوہر کے انتقال کے بعد تو وہ کوئی اچھی نوکری کرتی اور اپنے بچوں کو پڑھاتی اس کو تعلیم حاصل نہ کرنے پر بہت دکھ ہیں مگر وہ سمجھتی ہے کہ میں اپنے والدین کو بھی قصور وار نہیں ٹہرا سکتی کیونکہ اگے پڑھائی کے لیے میرے والدین مجھے تو اتنا دور نہیں بیج سکتے تھے اور نہ میں اکیلی ایک بہن تھی کہ سارا دھیان مجھ پہ دیتے ،وہ کہتی ہے کہ اگر میں نے اعلی تعلیم حاصل کی ہوتی تو آج ان کو اتنے تکالیف کا سامنا نہیں کرناپڑتا۔رضیہ خیبر پختون خوا کے ان لاکھوں خواتین میں سے ایک ہے جس نے پختون روایات کے مطابق تعلیم کو ادھورا چھوڑ دیاتھا۔وہ کہتی ہے کہ میرے چار بچے ہے مگر انکی تعلیم مین بھی انکے بڑے بھائی نے ساتھ دیا ہے اور وہ انکے بچوں کے تعلیم کا ساری خرچہ اٹھا رہا ہے اور انکو پڑھا رہا ہے تاکہ انکو باپ کہ کمی محسوس نہ ہوں

سوات مٹہ کے اسی علا قے سے تعلق رکھنے والی ایک بہادر خاتون نور بیگم جس کی عمرپینتالیس برس ہے اور اس نے اپنے بچوں کو گھر میں س لوگو کی کپڑے سیتی تھے اور اس نے گھر سلائی کا کام کیا ہے اور اپنے بچوں کو پڑھایا ہے ان کی چاربیٹیاں اور دو بیٹے ہیں کا کہناہے کہ انہوں نے اپنے چار بیٹیوں کو اعلی تعلیم دلائی ہے ،اور صرف اسی لیے کہ میں نے خود تعلیم حاصل نہیں کی ہے اور نہ میرے شوہر نے کی ہے مگر ہمیں بت زیادہ احسا س تھا کہ اگر ہم تعلیم یافتہ ہوتے تو کتنا اچھا ہو تا وہ کہتی ہی کہ جب میری بڑی بیٹی پڑھ رہی تھی تو خاندان کے لوگ اس کو برا سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے بیٹیوں کو پڑھا کر کیا کرنا ہے نوکری تو کرنی نہیں ہے تو کیوں بلا وجہ اپنے پیسے خرچ کر رہی ہوں مگر میں نے کھبی دھیان نہیں دیا ،اور اپنے بچوں کو پڑھایا ،مڈل تک تو یہہی پر تھا مگر اگے پھر انہیں مٹہ جاناپڑھتا تھا ،کیونکہ انکے گاوں میں اگے یہ سہولت موجود نہیں تھی ان کے دو بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی اللہ کا شکر ہے ۔نورکہتی ہے کہ بیٹیوں کو تعلیم دی انکو ایک اچھی جگہ پہ پہنچایا ہے ،بہت مشکلیں سہی ہے مگر اب اللہ کا شکر ہے بہت خوش ہوں کہ میرے بچے کامیاب ہے ،میں نے کھبی بھی اپنے بیٹیوں اور بیٹوں میں فرق نہیں کیا ہے سبکو ایک جیسی تعلیم دلانے کی خواہش کی تھی اور مکمل بھی ہوگئی

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

سوات کے دوردراز علاقے مٹہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنی والی گورنمنٹ کالج کی پروفیسر شازیہ حکیم کا کہناہے کہ ان کے والدین نے خاص کروالدہ نے ان کو بہتر تعلیم دی ہے انہوں نے مڈل تک تعلیم گاؤں میں حاصل کی میٹرک اپنے گاؤں سے دس کلومیٹر دور مٹہ میں حاصل کی اس طرح ایف ایس سی ، بی اے مینگورہ میں اوربعدمیں ماسٹر پشاور میں کیا والدہ کی خصوصی نگرانی اور مالی مشکلات کے باجود انہوں مزید تعلیم حاصل کی اب وہ پی ایچ ڈی کررہی ہے پچھلے دس سالوں سے تدریسی اداروں کے ساتھ جاب بھی کررہی ہے انہوں نے اس دوران اپنے تین بہنوں اور دوبھائیوں کی پڑھائی اور دیگر ضروریات میں مالی معاونت کی ہے خود کی شادی پرانہوں نے اپنا جہیز اور دیگر اخراجات خود ادا کردی ہے اب ان کی ایک بچی بھی جن کو بہتر تربیت دی جارہی ہے ان کے شوہر زیادہ تربے روزگار ہوتے ہیں مگر ان کو مالی مسائل کا سامنانہیں کرناپڑتاہے وہ اپنے خاندان کی بھی مدد کرتی ہے اور اس کی اپنی زندگی بھی ان خواتین کی نسبت بہتر ہیں جنہوں نے تعلیم حاصل نہیں کی یا درمیان میں چھوڑدی ہے ان کہناہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کہ لڑکیاں پرائی دھن ہوتی ہے ان کے کئی خواتین پروفیسر ساتھی بہتر زندگی گزاررہی ہے ۔معاشرے میں آگاہی کے ضرورت ہے تاکہ خواتین کی تعلیم کو اتنی ہی توجہ دی جائیں جتنی مردوں کی تعلیم کی طرف ہے ۔

سوات کے دوردراز علاقے شور سے تعلق رکھنے والی امنہ جو اس وقت جہانزیب کالج میں بی ایس کی طالبہ ہے وہ کہتی ہے کہ اگر چپریال میں سینکڑوں لڑکیاں ہے جو مزید تعلیم حاصال کرنا چاہتے ہیں،مگر یہاں ہائی سکول اور خاص کر کالج نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طلبہ گھروں میں بیٹھ جاتی ہے ۔کیونکہ والدین اپنے بچیوں کو منگورہ یا دوسرے علاقوں میں مزید پڑھنے نہیں دیتے ،،اور پھر ہاسٹلوں کے فیس کامسلہ بھی ہوتا ہے بعض لوگوں کے پاس وسائل اور رقم دونوں ہوتے ہیں مگر روایات کہ وجہ سے کوئی اپنی بچیوں کو دوسرے علاقوں میں تعلیم کے لئے نہیں بھجتے کہ وہ دوسرے علاقوں میں جاکر ہاسٹلوں میں رہے

ایک دوسری طالبہ عروج کہتی کہ ایک تو ہمارا تعلق ایسے علاقے سے ہے جہاں ماضی میں طالبان نے لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی عائد کردی تھی اور سکول بند کر دئیے تھے ،لڑکیاں گھروں سے بھی باہر نہی جاسکتی تھی اب جب سب ٹھیک ہوگیا اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا بھی ہمارے علاقے مٹہ سے ہے انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعلی اپنے علاقع کے بچیوں کے لئے چپریال میں ہائی سکینڈری سکول اور کالج قائم کریں تو اس علاقے کہ وہ بچیاں جو ان مجبوریوں کے وجہ سے تعلیم سے محروم ہوجاتی ہے انکو اپنے علاقے میں تعلیم کی سہولیات میسر ہونگی

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

محکمہ تعلیم ضلع سوات سے حاصل شدہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ضلع سوات میں لڑکیوں کے تمام سکولوں کی تعداد چھ سو اڑتالیس ہے جن میں ہائرسیکنڈری چودہ، ہائی سکول ایکتالیس،مڈل سکول انسٹھ اور پرائمری سکولوں کی تعداد پانچ سو ستائس ہے ان میں مجموعی طورپر نوے ہزار کے قریب بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہے ۔2015-16میں مجموعی طورپر ایکس ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کرایاگیاتھا جس میں کمی بیشی آتی رہی اس طرح 2018-19میں پچیس ہزار بچیوں کو سکولوں میں داخل کرایاگیا۔اس طرح 2016میں پرائمر ی میں نو ہزار طالبات داخل ہوئی جن میں چار ہزار چار سو بائیس نے میڈل کے بعد تعلیم چھوڑ دی ان میں مزید چودہ سو سے زائد نے مڈل میں تعلیم چھوڑ دی اس طرح میٹرک تک نوہزار چار سومیں صرف تین ہزار بچیاں پہنچ سکی ۔ اس طرح اگر پانچ سالہ ریکارڈ دیکھاجائیں تو یہ سلسلہ 2019تک اسی ترتیب سے جاری رہا اور اس میں مزید کمی آئی مگر بچیوں کی تعلم میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔محکمہ تعلیم زنانہ کے معلومات کے مطابق اس وقت ضلع سوات میں چار کے قریب بچیوں کے لئے سکول زیر تعمیر ہے جن میں کئی مکمل بھی ہوچکے ہیں مگر تاحال محکمہ تعلیم کے حوالہ نہیں کئے گئے ان سکولوں کا حوالے نہ کرنے کو وجوہات صرف یہی ہے کہ یا تو اس میں تعمیرتی کام مکمل نہیں ہوتا یا بجٹ کی وجی سے اس وہ کام نامکمل رہ جاتا ہے ۔ ضلع سوات میں بچیوں کے لئے تین سو استانیوں کے پوسٹیں خالی تھی اس پر اس سال استاذہ تعینات ہوچکے ہیں اور اس میں اب مزید ساٹھ استانیو کے پوسٹیں خالی پڑی ہیں م محکمہ تعلیم کے مطابق اس پر بھی کام جاری اور بہت جلد ان پوسٹوں پر بھی استاذہ تعیناتی ہوجایئگی ۔ان کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت ضلع بھر میں تین ہزار دو سو اٹھاسی استانیاں خدمات سرانجام دے رہی ہے ۔ محکمہ شماریات کی مطابق ہرسال دوہ لاکھ سے زائد بچیاں سکولوں کو جانے کی قابل ہوجاتی ہیں۔

ضلع سوات میں تعلیم کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم الف اعلان کے رہنما ڈاکٹر جواد کے مطابق پختون معاشرے میں روایات بچیوں کی تعلیم میں اتنی رکاوٹ نہیں جتنی حکومت کے طرف سے لڑکیوں کو دی جانی والی نامناسب سہولیات ہے ان کے مطابق خیبر پختون خوا میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی درسگاہیں آدھے سے بھی زیادہ کم ہے جبکہ مردم شماری کے مطابق خواتین باؤ ن فیصد اور مرد اڑتالیس فیصدی آبادی رکھتی ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہاکہ ضلع سوات میں لڑکوں کے مڈل سکولوں کی تعداد آٹھ سوہے جبکہ لڑکیوں کے چار سو ہے ۔ لڑکیوں کے تعلیمی ادارے ان کے گھروں سے بہت دور ہیں ان کو پیدل جانا پڑتاہے ، اور اگر پیدل جانا نہ ہون تو گاڑیوں کے ذریعے جانا ہوتا ہے جو ہر کوئی نہیں کرسکتا کہ اتنے زیادہ کرایہ دیں اس طرح زیادہ تر سکولوں میں مناسب سہولیات نہیں ہیں، کئی سکولوں میں استانیاں موجو د ہی نہیں ہوتی، ان ہی وجوہات کے بنا پر زیادہ تر والدین بچیوں کو سکول داخل نہیں کراتے جبکہ ان کے سروے کے مطابق ہرسال باسٹھ فیصد بچیاں ان ہی وجوہات کے بنا پر پرائمری کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں ۔ ڈاکٹر جواد مزید کہتے ہیں والدین بچیوں پر تعلیم کرناچاہتے ہیں مگر ان کے کچھ تحفظات ہے اگران کو دور کیاجائیں تو بچیوں کے تعلیم کی شرح بڑھائی جاسکتی ہے وہ مزید کہتے ہیں کہ میٹرک کے بعد تو خواتین کی مزید تعلیم حاصل کرنا مزید دشوار اور مشکل کام بن جاتاہے کیوں کہ اعلی تعلیم کے لئے خواتین کے سہولیات کی شدید کمی ہے ۔اور اس وقت پورے سوات میں لڑکیوں کے چھ ڈگری کالجز ہے اور یہ ناکافی ہے کیونکہ سوات میں ایسے بہت سے علاقے ہے جہاں کی بچیاں ہاسٹلوں میں نہیں رہ سکتی اور نہ ہی انکے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں ،سوات میں اس وقت لڑکیوں کے لئے مزید اور کالجز کی ضرورت ہے کیونکہ جو بچیوں کا کالج تک رسائی ممکن نہیں ہوتی وہ تعلیم حاصل کر سکے

سوات میں تیرہ کالجز ہے جن میں سات لڑکو ا اور چھ لڑکیوں کے لئے مختص ہے ۔ان چھ کالجز میں ایک پوسٹ گریجویٹ ہے جبکہ علاقے میں ایک یورنی ورسٹی بھی موجود ہے ۔ان چھ کالجز میں ایک سو بارہ استاذہ تعینات ہے ، ماہرین تعلیم کی مطابق سوات میں مزید کالجوں خصوصاً لڑکیوں کی کم از کم چار کالجوں کی اشد ضرورت ہے ۔ حکومت خیبر پختون خوا کے نوٹفیکشن کے مطابق سال 2019-20کے سالانہ بجٹ میں پوری ضلع میں پندرہ نئے کالجوں کی منظوری دی جاچکی ہے جس کے لئے نو سو میلن بجٹ مختص کیاگیا۔ان پندرہ کالجوں میں چار کالج سوات میں بھی بنائی جائے گی.جوکہ تمام کے تمام صرف لڑکوں کے لئے مختص ہے ا۔ خیبر پختون خوا حکومت نے ہر نئے کالج کے لئے ساٹھ ملین مختص کئے گئے ہیں اسطرح سوات کے تحصیل مٹہ کے علاقے چپریال یونین کونسل میں بھی لڑکوں کے لئے ایک ڈگری کالج کی منظوری دی جاچکی ہے جس کے لئے ساٹھ میلن روپے مختص کئے جاچکے ہیں،یاد رہے کہ وزیر اعلی محمود خان کا حلقہ ہے ،جس میں زیادہ ضرورت لڑکیوں کی کالج کی ہے ۔ا۔ سوات میں خواتین کے لے کالجوں کے ضروت او ر تعمیر بارے صوبائی اسمبلی کے ممبر عزیزاللہ گران کہتے ہیں کہ صوبائی حکومت ہر صوبائی ممبر کو ایک کالج اور ہائی سکول اور دیگر تعلیمی اداری قائم کرنے کا کوٹہ دیتے ہیں ۔ جن علاقوں میں زیادہ ضروت ہو تواس کے مطابق کالج یا تعلیمی ادارہ قائم کیاجاتاہے اس طرح حال ہی میں چار باغ میں ڈگری کالج کی منظوری دی جاچکی ہے ۔ اسطرح بجٹ کے مطابق ہم پالیسی بناتے ہیں ۔ فی الحال بجٹ اور ضروت کے مطابق یہی فیصلہ کیاگیاہے ۔


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here