افغان مہاجرین جو سالوں سے سوات میں مقیم ہیں وہ واپس نہیں جانا چاہتے

0
34

تیس سا لہ عمران جو سوات مینگورہ میں رہائش پذیر ہے اور انکا اپنا ایک میگا مارٹ ہے ،جس میں مختلف اشیاء خوردنشوش کی کاروبارکی جاتی ہے۔کا کہناہے کہ ان کے والدین افغان روس جنگ کے دوران سوات آئے تھے ۔ اس وقت سوات ایک الگ ریاست تھی ۔ان کے والدین نے سوات میں کاروبار شروع کیا ان کی اور دیگر بھائی بہنوں کی پیدائش سوات میں ہوئی ۔ افغانستان میں امن کے باوجودان کا خاندان سوات میں رہائش پذیر ہے اور سوات ہی میں وہ اپنامستقبل گزارنا چاہتے ہیں۔ان کے خاندان سوات کو کسی بھی صورت میں چھوڑنے کو تیانہیں۔

عمران کا کہناہے کہ میں نے سوات ہی میں بی ایس تک تعلیم حاصل کی ،مجھے تعلیم حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے ۔ ہمارے بڑوں نے سوات میں گھر بنالیاہے ۔ سوات کے لوگ بہت اچھے طریقے سے ہمارے ساتھ پیش آتے ہے ۔ہم پر اعتماد بھی کرتے ہیں، افغانستان میں ہمارے بہت سارے رشتہ دار ہے میں خود دو بار گیا ہوں ،مگر انا جانا تھوڑا مشکل ہوتا ہے ۔افغانستان میں ہمارے رشتہ دار بھی ہم سے ملنے انا چاہتے ہیں مگر قانونی مشکلات کی وجہ سے نہیں اسکتے ہیں ۔ اس لئے ہمارے رشتہ کھبی ہم سے ملنے نہیں آئے ہیں۔

عمران نے بتایا کہ جنگ کے دوران جب ہمارے بڑوں نے یہاں ہجرت کی تھی تب وہ مختلف اشیاء کی تجارت کرتے تھے ،اور اپنا کاروبار کرتے تھے،یہاں پہ لوگ ہمارے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں ،باقی تو انسان کے خود پہ منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیسے ایک جگہ پہ امن اور سکون سے رہتا ہے،عمران نے بتایا کہ کھبی کھبی ایسا ہو جاتا ہے ،کہ لوگ غصے مین کہہ جاتے کہ اپ لوگ افغانی ہوں یہ اپ لوگوں کی جگہ نہیں اپنے ملک چلے جاو،مگر ہم دل پہ نہیں لیتے کیونکہ یہی لوگ ہمارے مشکل میں بھی ہمارے کام اتے ہیں
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان کے طرف سے ان کو یہاں سے نکل جانے کو کہا بھی گیا تو بھی یہاں سے نہیں جاسکتے ، ہم یہاں امن و سکون سے رہ رہے ہیں، لیکن واپس جانان ممکن نہیں کیونکہ افغانستان میں دوبارہ نئے سرے سے زندگی اور اپنا کاروبار شروع کرنا ہوگا جو کہ بہت مشکل ہے ۔ اب ہم باقاعدہ پاکستان کی شہری ہے ہمارے پاس تمام قانونی دستیوزات موجود ہیں۔

1979 افغانستان پرروس کے حملے کے بعد لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان ہجرت کی جن میں سے زیادہ نے خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں آباد ہوئے ان میں سے ہزاروں کی تعداد میں ضلع سوات میں بھی پھیل گئے ۔بعدمیں بتریج واپس چلے گئے ۔ مگر ان میں ایسے ہزاروں خاندان نے باقاعدہ پاکستانی شہریب بھی حاصل کی جن کو والی سوات نے اجازت دے رکھی تھی ۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

چالیس سال سے سوات میں مقیم رحیم اللہ نے بتایا کہ جب جنگ کے دوران خاندان والوں نے پاکستان ہجرت کی ۔تو اس دوران ہم نے پشاور،مردان اور نوشہرہ میں وقت گزارا ہے ، اور پھر ہم سوات آگئے پچھلے تیس سالوں سے ہم یہاں پر رہائش پذیر ہے ۔رحیم اللہ کا مینگورہ شہر کے چینہ بازار میں کپڑے کا کاروبار ہے۔ جہاں پر سینکڑوں چھوٹے بڑی کاروبار مراکز پر روزانہ ہزراں لوگ خریداری کرتے ہیں۔

رحیم اللہ اپنے کاروبار کے بارے میں بتارہے ہیں کہ ابتداء میں جب ہم سوات آئے تو اس وقت ہمارے خاندان کے مرد اورخواتین دکانوں سے کپڑے خرید تے تھے۔ ان کپڑوں کو سر پر اٹھا کر سوات کے مختلف علاقوں کے گھروں میں فروخت کردیتے تھے یہ بہت سخت اور مشکل کام تھا۔ مگر اس وقت ہمارے بڑوں کے پاس زندگی گزارنے کے لئے کوئی دوسرہ زریعہ نہیں تھا۔ ہماری بزرگوں نے ہمت نہیں ہاری اورمسلسل محنت کر کے ہمیں ان مشکلات سے بچایا ۔ ان کی محنت کی بدولت اب ہم اپنے دکانوں میں کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ انہوں نے مذید بتایا کہ ہم افغانی لوگ محنت سے نہیں گھبراتے اپنا کاروبار کرتے ہیں کسی کی نوکری نہیں کرتے نہ کسی سے بھیک مانگتے ہیں ۔محنت میں کھبی ہم نے عار محسوس نہیں کیا ۔

اقوام متحدہ کا ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یواین ایچ سی آر) ریکارڈ کے مطابق اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ رجسٹرڈ افغان خیبرپختونخوا میں رہائش پذیرہے جن کی تعداد 8لاکھ 2 5ہزار ہے ، بلوچستان میں ان کی تعداد 3لاکھ 2 5ہزار، پنجاب میں ایک لاکھ 6 0ہزار جبکہ سندھ میں صرف 6 5ہزار افغان مہاجرین آباد ہے ۔ یواین ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی کاکہناہے کہ پاکستان میں جن کے پاس تصدیق شدہ افغان کارڈ موجود ہیں ان کو رجسٹرڈ افغان مہاجر کہا جاتا ہے ۔ اور پاکستان میں تین قسم کے افغان مہاجر رجسٹرڈ ہیں۔ ایک وہ جو یو این ایچ سی آر کے مینڈیٹ میں آتے ہیں جو پی او آر یعنی پروف آف رجسٹریشن کارڈز کے حامل ہے ان کو بین الااقوامی تحفظ حاصل ہے ان کی تعداد تقریباً 1 4لاکھ ہے ۔ وسری قسم میں وہ افغانی لوگ شامل ہیں ۔جن کو 2017 میں حکومت پاکستان نے رجسٹرڈ کیا تھا ان کو افغانی شہریت کارڈ دیا گیا ہے ان کی تعداد 8لاکھ 8 0ہزار ہے۔ اور تیسری قسم وہ ہیں جن کے پاس کوئی تصدیق شدہ کارڈ یا شہریت کے کاغذات موجود نہیں ہیں۔ ان افغانیوں کو مہاجرین نہیں کہا جا سکتا بلکہ افغان شہری کہہ سکتے ہے ۔ ترجمان قیصر خان نے کا مزید کہنا ہے کہ یواین ایچ سی آر کی طرف سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے لئے 4ہزار 50 0پروجیکٹ ہیں جن سے ان کو تعلیم ، صحت اور دیگر ضروریات زندگی کی آسانیاں دی جاتی ہیں جو ان کے مطابق ملک کی معیشت پرایک بڑا بوجھ ہے لیکن اگر ہم دوسری جانب بھی دیکھیں تو کاروبار، مزدوری اور ٹیکس کی صورت میں پاکستان کو فائدہ ملتا ہے ۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

اس طرح ضلع سوات کے ڈپٹی کمشنر افس سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق اس وقت سوات میں تین ہزار سات سو آٹھ رجسٹر افغان مہاجرین کا ریکارڈ موجود ہے جن میں دو سو اٹتیس خاندان شامل ہے اس طرح ضلع سوات میں نادار آفس کے پاس ایک سو اٹھاسی افراد کا ریکارڈ دستیاب ہے۔ جبکہ 1969سے قبل آنے والے افغان مہاجرین جن کو حکومت پاکستان نے باقاعدہ شناختی کارڈ جاری کیاہے ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔

:افغان مہاجرین کے معیشت پراثرات

سوات ٹرید فیڈریشن کے صدر عبدرحیم کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کے آنے سے یہاں کے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ یہاں اکر ان لوگوں نے کوئی نہ کوئی کاروبار شروع کیا ہے ۔یہاں کے لوگوں کے دوکانیں ، مارکٹیں اور گھروں کو کرایہ پہ لے رکھے ہیں۔ ایک طرف افغان مہاجرین کی وجہ سے مقامی لوگوں کا کاروبار بھی چل رہاہے۔ جس سے مقامی لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع ملے ہیں۔تو دسروی طرف کرائیوں کی مد میں ماہانہ اچھی خاصی رقم مقامی مالکوں کو ملتاہے ۔ بازارکے صدر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ یہاں بہت ہی امن اور سکون سے رہ رہے ہیں کھبی کسی نے ان افغانیوں کی کوئی شکایت نہیں کی بازار اج تک کہ کھبی انہوں نے بازار میں لڑائی کہ ہوں۔

:خوارک اور لباس

سیدوشریف کی سماجی کارکن نیلم چٹان کاکہناکہ افغانیوں کے ساتھ میل جول اور ان کے کاروبار کی وجہ سے رہن سہن پر اثر ہوا ہے افغان مہاجرین اور ہم مشترکہ طورپر پختون ہے مگر علاقائی کلچر میں فرق ہے اس کے باجود افغانیوں کی مخصوص خوراک، لباس اور رسم ورواج کا مقامی لوگوں پر کافی اثر ہے ۔ خاص کر افغانیوں کی لباس کو مقامی لڑکیوں نے اپنایا ہے کیوں کہ ان کا لباس منفرف ہے اور اس میں پختون لڑکیاں اور خواتین اچھی لگتی ہے ۔میں نے خود اپنے لئے افغانی فراک بنایاہے جو کہ بہت ہی شاندار ہے ۔اس فراک میں واقعی وہ خود کو ایک پختون خاتون محسوس کرتی ہے ۔ اس علاقے میں زیادہ تر خواتین کی لباس پنجاب اور انڈیا کے زیر اثر ہے۔ افٖغانستان کی لوگوں نے اپنی روایات اور طرز زندگی کو نہیں چھوڑا ہے پچاس سالوں میں بھی وہ اپنے مخصوص لباس پہنتے ہیں اور اپنے کلچر کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ۔ ان کی خوراک بھی روایاتی ہے ۔

پچیس سالہ نیلم چٹان کاکہناہے کہ افغانی لباس خاص کر پراک آج کل بہت مقبول ہے ۔ شادی بیاہ اور دیگر تقریباتوں میں لڑکیاں افغانی فراک خصوصی طورپر بنواتی ہے۔ اسکے ساتھ وہ ماتاپٹی اور باقی میچنگ جیولری جو اٖفغانی لڑکیاں پہنتی ہے ا س کا بھی استعمال عام ہوگیاہے ۔نیلم نے مزید بتایا کہ افغانیوں کے یہاں آباد ہونے کے بعد سوات کے لوگوں نے افغانیوں کے خوراک خاص کر افغانی پلاو کا استعمال شروع کردیا گھروں میں کھانے کے علاوہ ریسٹورانٹ میں بھی لوگ افغانی پلاو ، دم پوخ، منتو اور یگر افغانی کھانے شوق سے کھاتے ہیں ۔


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here