اربوں کھربوں کے معاملے میں سیاسی بنیادوں پرتقرری کی جاتی ہے: چیف جسٹس

0
356

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اربوں کھربوں کے معاملے میں سیاسی بنیادوں پرتقرری کردی جاتی ہے اور ماضی میں نامناسب شخص کو مترکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین لگایا گیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیرمین کی تقرری سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کا چیرمین اقلیت سے ہونا چاہیے، ماضی میں نامناسب شخص کوبورڈ کا چیرمین لگایا گیا، وہ شخص آج بھی عدالت سےمتعلق غلط بات کررہا ہے، ہم اس شخص پرتوہین عدالت لگا دیں گے۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ صدیق الفاروق کی کیا قابلیت تھی؟ وہ ساری زندگی مسلم لیگ (ن) کے پریس روم میں بیٹھ کرکلپنگ کاٹتے رہے، ابھی بھی اقرباپروری کو قائم رکھتے ہوئےکسی چہیتےکولگادیں.

سینئر جوائنٹ سیکریٹری وزارت مذہبی امور نے عدالت کو بتایا کہ انہیں چیئرمین کا عارضی چارج سونپا گیا ہے، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کب تک نیا چیئرمین لگادیں گے؟ دو 3 سال تولگیں گے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نا اہل لوگوں کو تعینات کرتے ہیں، آج بھی انہی کا نمائندہ بن کرعدالت کے خلاف بول رہے ہیں۔