ہم اپنے فرائض سے بے خبر ہیں یا پھر ہمیں احساس ہی نہیں

0
42

تحریر : عاصمہ علی

یہ خیال کرنا بے معنی ہے کہ آیا حقوق فرائض سے پہلے آتے ہیں یا فرائض حقوق سے پہلے‘ یہ دونوں ایک دوسرے کے تکمیلی جُزو ہیں۔ اگر ہر شخص محض اپنے حق پر اصرار کرے مگر دوسروں کے حقوق یعنی اپنے فرائض کو نظر انداز کردے تو جلد ہی یہ حالت ہوجائے گی کہ کسی کیلئے کوئی حقوق نہیں ہونگے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ”دوسروں سے وہی سلوک کرو جس کی تم دوسروں سے خود اپنے لئے توقع کرتے ہو“۔
حقوق اور فرائض کا چولی دامن ساتھ ہے، جہاں ہم حقوق کی بات کرتے ہیں وہاں فرائض بھی شامل ہوجاتے ہیں،شہریوں کے ذمہ داریاں بے شمار ہیں۔ ہمارے مُلک میں حق کی بات ہر کوئی کرتا ہے لیکن فرائض سے ہم سب رو گردانی کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتی ہے۔ ادیان عالم کی تعلیمات میں حقوق و فرائض کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ اِس زمانے میں جس مُلک کے شہری اپنے فرائض صحیح ادا کرتے ہیں وہی اُن کو اُن کے حقوق بھی اُسی طرح مل جاتے ہیں۔ تاریخی اور فلسفہ کے علوم یا ماہرین عمرانیات سے ہٹ کر کوئی عام آدمی بھی اگر ایک منٹ کیلئے سوچے تو یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ فرض نبھائے بغیر حق کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
ہم اپنے ملک میں اگر سڑکوں کی بات کریں تو آپ کو ٹوٹی پھوٹی ملیں گی، صفائی کی بات کریں تو جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آئیں گے، پانی کی بات کریں تو جگہ جگہ لیکجز ہوں گے۔سکول‘ ہسپتال‘ سماجی اداروں کے دفاتر اورکھیل کھود کے میدانوں کا بھی یہی حال ہے جو بڑے بڑے رقوم خرچ کرکے بنتے ہیں لیکن حکومتی غفلت اور شہریوں کی غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے سب کی حالت خراب ہے۔ عوامی مقامات پر لگائی گئی دیواریں، بیٹھنے کے لئے رکھی گئی کرسیاں اور میزیں، بچوں کے لئے لگائے گئے جھولے،جنگل اور سیر سپاٹے کی جگہیں بھی عوام ہی برباد کردیتے ہیں۔ بے جا چوریاں‘ توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاناعلاقے کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سڑک کے کنارے دیواریں سماجی اور نجی اداروں کے چاکنگ سے بہت متاثر ہیں۔ خواہ مخواہ کی چاکنگ اور نفرت آمیز جملے نہ صرف بُرے لگتے ہیں بلکہ سیاحوں کے لئے خوف و ہراس کا باعث بھی بنتے ہیں۔

ترقی یافتہ قومیں اپنے بڑوں اور بزرگوں کی اقوال اپنے سینوں میں محفوظ رکھتے ہیں ہم اُن کو دیواروں کی زینت بناتے ہیں ہم اُن کی پرچار کے نام سے اُن کی تذلیل کرتے ہیں ترقی یافتہ قومیں اُن کو عملی شکل دیتے ہیں مثلاََ یورپ کی سڑکوں اور چوراہوں پر آویزاں اُن کے بزرگوں کے خاکے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ اُن کی خدمات کی یاد دلاتے ہیں جو اُنہوں نے تاریخ میں کردار ادا کیا ہےلیکن ہمارا حال قدرے مختلف ہےہم عقائد میں پکے ہیں وہ اعمال میں‘ ہم جذبات کے مضبوط ہیں وہ کردار کے‘ یہی فرق اُن کی مادی ترقی کا سبب بنی ہےیورپ کے ترقی یافتہ ملک تاریخ سے سبق سیکھ چکے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہاں بھی کچھ مسائل ہو لیکن ہمارے نسبت وہاں مادی ترقی بہت زیادہ ہیں ہمارے جتنے بھی اہم شخصیات بنے ہیں وہ یورپ سے ہی پڑھے لکھے ہیں اور یہ سفر آج بھی جاری ہےہمارے شہریوں کے تعلیمات اُن سے مضبوط ہیں لیکن عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہم وہاں جاکے سیکھتے ہیں موجودہ حالات میں انسانی حقوق کی پرچار عالمی سطح سے گھروں تک جا پہنچی ہےانسانی حقوق پر اس قدر زور دیاجاچکا ہے کہ اب ہر آدمی ہر بات پہ اپنی حقوق کی بات کرتاہے شہریوں اور انسانی حقوق کی اس قدر پذیدائی کے بعد اب فرائض کی طرف زور دیناچاہئے تاکہ دنیا میں ہر انسان کو جہاں حق حاصل ہو وہاں فرض کی ادائیگی میں بھی کوئی کسر باقی نہ رہےبحیثیت شہری فطری، سماجی، قانونی، بنیادی،شہری اور سیاسی حقوق ہوتے ہیں حقوق کے کئی اقسام ہیں لیکن آخرکار اُن کا حصول اُس صورت میں ممکن ہے جب ہم اپنے فرائض کی ادائیگی کرینگے۔
راقم الحروف کو ضلع کوہاٹ کے ایک سرکاری کالج میں گریجویشن لیول کے طلباء کے ساتھ ایک تربیتی سیشن میں بات چیت کرنے کا موقع ملاجس میں ان کو ملٹی میڈیا کے ذریعے کچھ تصاویر دکھائے گئے جن میں کوڑا دان تو پڑا ہواتھا لیکن کچرا ڈسٹ بن سے باہر تھادوسری تصویر میں ایک صفائی کا اہلکا ر نالی سے بڑی تعداد میں پلاسٹک کی بوتلیں،ٹافیوں کے چھلکے اور پلاسٹک بیگز نکال رہاتھا۔
تصویریں دکھانے کے بعد جب طلباء سے سوال کیا گیا کہ (احساس شہریت)کیا ہے تو حال میں موجود 25طلباء میں سے صرف 2طالب علموں نے جواب دینے کے لئے ہاتھ اٹھایا، ان میں سے ایک طالب علم کا جواب سن کر مجھے جھٹکا لگا اور تھوڑی دیر کے لئے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ ہمارے تعلیمی نظام اور والدین کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی ہے؟ جواب ملا تھا کہ  احساس شہریت وقت کی پابندی کو کہتے ہیں۔
واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنی کوہاٹ کے ساتھ دوسال کام کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ صفائی جس کو ہم اہمیت ہی نہیں دیتے اس کو برقرار رکھنے کے لئے ادارہ کم وسائل میں کتنے جتن کررہاہےپچھلے رمضان میں ادارے کی طرف سے کوہاٹ کے ایک مصروف ترین بازار میں آگاہی اسٹال لگایاگیاتھا جہاں پر ڈبلیو ایس ایس سی کوہاٹ کے ذمہ داران شہریوں میں صفائی کے حوالے سے آگاہی پمفلٹس تقسیم کر رہے تھے اور ساتھ ہی درخواست کر رہے تھے کہ برائے مہربانی کچر ے کو مقرر کردہ مقام پر ہی پھینکیں تو ساتھ کھڑے ایک کم عمر بچے نے کہا کہ ہم تو گند پھینکیں گے اورسینیٹری ورکرزہی اسے اٹھائے گا کیونکہ یہ انکی ذمہ داری ہے۔ یقین مانیں یہ رویہ اور سوچ ہمارے پورے معاشرے کا ہے کیونکہ یہ اکیلے اس بچے کا جواب نہیں بلکہ اس کے والدین، محلے دار اور سکول کے اساتذہ اور بچوں کاجواب بھی تھا۔

میری درخواست ہے ان لوگوں سے جنہوں اس بچے اور اس جیسے اور بچوں کو یہ پڑھایا اور سمجھایا ہے کہ سینیٹری ورکر کا کام کچرا اٹھانا ہے انکو یہ بھی سمجھائیں اور پڑھائیں کہ ہمارا کام بھی کچرا پھینکنا نہیں ہےہمارے معاشرے میں بحیثیت شہری ہم اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے یا تو بے خبر ہیں یا پھرہمیں احساس ہی نہیں ہے۔
آپ نے شہریوں کو اکثر شکایت کرتے ہوئے سنا ہوگا کہ فلاں جگہ یا سڑک کو کسی نے صاف نہیں کیا، حکومتی ادارے کام نہیں کررہے، سرکاری ملازمین مفت تنخواہیں لے رہے ہیں وغیرہ وغیرہ
لیکن کیا ایسے شکایت کنندہ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ اس جگہ یا سڑک کو گندہ کس نے کیا ہے؟اگر کچرا پڑا ہے تو اسی جگہ کے کسی رہائشی نے پھینکا ہوگا کیونکہ ہم صرف اپنے گھر کو صاف کرتے ہیں اور گھر کا کوڑا کرکٹ گلی یا محلے میں کسی بھی جگہ پھینک دیتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگ گاڑی سے سڑک پرشیشہ کھول کر کچرا پھینک دیتے ہیں عین ممکن ہے کہ صفائی کا عملہ اس وقت صفائی کرکے چھٹی کرچکا ہو اور یہ کوڑا کرکٹ اگلے دن تک پڑے رہے گا۔

ہم احساس ذمہ داری سے بالکل عاری ہیں ہماراتعلیمی سسٹم اچھے اور مہذب شہریوں کی بجائے صرف ڈگری ہولڈرز پیدا کررہاہے، تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو ذمہ دار شہری بنانے کی جگہ گریڈز اور اچھے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں لگادیاجاتا ہے جو اپنے فرائض کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل دوسروں کے حقوق کا گلہ کاٹتا رہتا ہے۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ایسی تبدیلی جہاں دوسرے ٹھیک ہوں، قانون کی پاسداری کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے اور اچھے شہرے بننے کی تبلیغ کی جگہ خود کو ایک مثال بنا کر پیش کریں۔
اس وقت خیبر پختونخوا حکومت کرونا وائرس اور ڈینگی بخار سے شہریوں کو بچانے کے لئے کوشاں ہے اور حکومتی احکامات کی روشنی میں ساتوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں قائم کردہ سینی ٹیشن اداروں کوروزمرہ کی ڈیوٹی سرانجام دینے کے علاوہ محدود وسائل کے ساتھ دو اور محاذوں پر لڑنا پڑ رہاہے تاکہ شہریوں کو ان مہلک اور جان لیوا بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
لاک ڈاؤن کے دوران جہاں شہریوں گھروں میں آرام کررہے تھے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو اسی دوران سرکاری اداروں کے ملازمین اپنی جانیں خطرے میں ڈال کرڈیوٹیوں پر موجود تھے یہ تمام لوگ چاہے عید ہو، محرم یا کرسمس اپنی چھٹیاں قربان کر کے عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔
اس لئے شہری اگر سرکاری اداروں اور ان کے ملازمین سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی ہوگی، اداروں اور انکے ملازمین سے تعاون کرنا ہوگا، انکی باتوں اور ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب تمام شہری احساس شہریت کا خیال رکھیں گے اپنے گھر کی طرح محلے اور سڑکوں کو بھی صاف رکھیں گے، اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رائے کا بھی احترام کریں گے، قانون کی مکمل پاسداری کریں گے، ٹریفک قوانین پر من وعن عمل درآمد کریں گے، عوامی مقامات پر اپنی باری کا انتظار کریں گے، گاڑیو ں سے کچرا سڑکوں اور شاہراہوں پر نہیں پھینکیں گے اور پریشر ہارن کا استعمال نہیں کریں گے، گاڑی نامناسب جگہ پر کھڑی کرنے کی بجائے صرف مقرر کردہ پارکنگ میں کھڑی کریں گے، گھروں، ہاسٹلوں اور گاڑیوں میں موسیقی کی آواز مدھم رکھیں گے،قدرتی وسائل کا استعمال احتیاط سے کریں گے،سرکاری املاک اور پارکوں یا دیگر عوامی مقامات پر موجود اشیاء کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، پانی کے استعمال میں احتیاط کریں گے، حکومت کی جانب سے شہریوں کو دی گئی سہولتوں کا مناسب استعمال کریں اور اپنے یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکسز وقت پر ادا کریں گے۔

‎میری درخواست ہے ان لوگوں سے جنہوں اس بچے اور اس جیسے اور بچوں کو یہ پڑھایا اور سمجھایا ہے کہ سینیٹری ورکر کا کام کچرا اٹھانا ہے انکو یہ بھی سمجھائیں اور پڑھائیں کہ ہمارا کام بھی کچرا پھینکنا نہیں ہےہمارے معاشرے میں بحیثیت شہری ہم اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے یا تو بے خبر ہیں یا پھرہمیں احساس ہی نہیں ہے۔
‎آپ نے شہریوں کو اکثر شکایت کرتے ہوئے سنا ہوگا کہ فلاں جگہ یا سڑک کو کسی نے صاف نہیں کیا، حکومتی ادارے کام نہیں کررہے، سرکاری ملازمین مفت تنخواہیں لے رہے ہیں وغیرہ وغیرہ
‎لیکن کیا ایسے شکایت کنندہ لوگوں نے کبھی سوچا ہے کہ اس جگہ یا سڑک کو گندہ کس نے کیا ہے؟اگر کچرا پڑا ہے تو اسی جگہ کے کسی رہائشی نے پھینکا ہوگا کیونکہ ہم صرف اپنے گھر کو صاف کرتے ہیں اور گھر کا کوڑا کرکٹ گلی یا محلے میں کسی بھی جگہ پھینک دیتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگ گاڑی سے سڑک پرشیشہ کھول کر کچرا پھینک دیتے ہیں عین ممکن ہے کہ صفائی کا عملہ اس وقت صفائی کرکے چھٹی کرچکا ہو اور یہ کوڑا کرکٹ اگلے دن تک پڑے رہے گا۔

‎ہم احساس ذمہ داری سے بالکل عاری ہیں ہماراتعلیمی سسٹم اچھے اور مہذب شہریوں کی بجائے صرف ڈگری ہولڈرز پیدا کررہاہے، تعلیمی اداروں میں طالب علموں کو ذمہ دار شہری بنانے کی جگہ گریڈز اور اچھے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں لگادیاجاتا ہے جو اپنے فرائض کا پتہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل دوسروں کے حقوق کا گلہ کاٹتا رہتا ہے۔ ہم تبدیلی چاہتے ہیں لیکن ایسی تبدیلی جہاں دوسرے ٹھیک ہوں، قانون کی پاسداری کریں، ان کے حقوق کا خیال رکھیں لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ ہم دوسروں سے امیدیں وابستہ کرنے اور اچھے شہرے بننے کی تبلیغ کی جگہ خود کو ایک مثال بنا کر پیش کریں۔
‎ اس وقت خیبر پختونخوا حکومت کرونا وائرس اور ڈینگی بخار سے شہریوں کو بچانے کے لئے کوشاں ہے اور حکومتی احکامات کی روشنی میں ساتوں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں قائم کردہ سینی ٹیشن اداروں کوروزمرہ کی ڈیوٹی سرانجام دینے کے علاوہ محدود وسائل کے ساتھ دو اور محاذوں پر لڑنا پڑ رہاہے تاکہ شہریوں کو ان مہلک اور جان لیوا بیماریوں سے بچایا جا سکے۔
‎لاک ڈاؤن کے دوران جہاں شہریوں گھروں میں آرام کررہے تھے اور اپنے خاندانوں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو اسی دوران سرکاری اداروں کے ملازمین اپنی جانیں خطرے میں ڈال کرڈیوٹیوں پر موجود تھے یہ تمام لوگ چاہے عید ہو، محرم یا کرسمس اپنی چھٹیاں قربان کر کے عوام کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔

‎اس لئے شہری اگر سرکاری اداروں اور ان کے ملازمین سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنی ہوگی، اداروں اور انکے ملازمین سے تعاون کرنا ہوگا، انکی باتوں اور ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب تمام شہری احساس شہریت کا خیال رکھیں گے اپنے گھر کی طرح محلے اور سڑکوں کو بھی صاف رکھیں گے، اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کی رائے کا بھی احترام کریں گے، قانون کی مکمل پاسداری کریں گے، ٹریفک قوانین پر من وعن عمل درآمد کریں گے، عوامی مقامات پر اپنی باری کا انتظار کریں گے، گاڑیو ں سے کچرا سڑکوں اور شاہراہوں پر نہیں پھینکیں گے اور پریشر ہارن کا استعمال نہیں کریں گے، گاڑی نامناسب جگہ پر کھڑی کرنے کی بجائے صرف مقرر کردہ پارکنگ میں کھڑی کریں گے، گھروں، ہاسٹلوں اور گاڑیوں میں موسیقی کی آواز مدھم رکھیں گے،قدرتی وسائل کا استعمال احتیاط سے کریں گے،سرکاری املاک اور پارکوں یا دیگر عوامی مقامات پر موجود اشیاء کو نقصان نہیں پہنچائیں گے، پانی کے استعمال میں احتیاط کریں گے، حکومت کی جانب سے شہریوں کو دی گئی سہولتوں کا مناسب استعمال کریں اور اپنے یوٹیلیٹی بلز اور ٹیکسز وقت پر ادا کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here