Home Health & Fitness Covid-19 کرونا وائرس او اسکے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات۔

کرونا وائرس او اسکے معاشرتی اور نفسیاتی اثرات۔

0
29

عجیب مرض ہے جس کا علاج ہے تنہائی
بقائے شہر ہے اب شہر کے اجڑنے میں

’’وہ اپنے شوہر سے بار بار کہہ رہی تھی کہ میری طبیعت بہت خراب ہے مجھے ہسپتال لیکر جائیں،رمضان المبارک کے مہینے میں وہ بیمار ہوئی تھی ہمیں اتنے زیادہ معلومات نہیں تھی ۔اس کے گھر والوں نے کہا کہ بیمار ہے تو ہمیں لگا ویسے عام بیماری ہوگی،اسے کرونا ہوا تھا مگر گھر والے اس کو ہسپتال علاج کے لئے نہیں لے جارہے تھے۔ ان کے تمام گھر والے اس کی بیماری کو چھپا رہے تھے۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیمار ہے

یہ کہنا ہے( فرضی نام ) گھریلوں خاتون نادیہ کا جنکی رشتہ دار خاتون جوکہ ان کی سہیلی بھی تھی۔ حالیہ دنوں میں کرونا کی وجہ سے نتقال کر گئی ہے۔ انتقال کرنے والی خاتون کی عمر صرف چھبیس سال تھی شادہ شدہ تھی اور اعلی تعیلم یافتہ تھی جبکہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں خدمات سرانجام دے رہی تھی ۔ نادیہ آب دیدہ لہجے میں کہتی ہے کہ اسکے گھر والے اسکو اس لئے مریضہ کو ڈاکٹر کے پاس نہیں لیکر جا رہے تھے،اکہ ان کو اپنی عزت کی فکر تھی ۔ ان کے شوہر کا کہنا تھا اگر ہم اسے ہسپتال لے گئے اور لوگوں کو پتہ چل گیا۔ کہ اس گھر میں کرونا مریضہ ہے تو ہمارے گھر پرپولیس آئیگی بلدیہ کاور محکمہ صحت کے اہلکار آئینگے طرح طرح کے سوالات کرینگے گھر کے دیگر افراد کا معائینہ کیا جائیگا۔ ہم کو نفرت کے نگاہوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اس سے محلے اور علاقے میں ہماری عزت خاک میں مل جائیگی ۔

نادیہ کا مزید کہناہے کہ کرونا مریضہ کا علاج گاوں میں ایک میڈیکل سٹور کے مالک بابو صاحب سے کروایا گیا۔ ان سے علاج جاری تھا ۔ مریضہ کو سانس کی بیماری نے گھیر لیا ۔ ان کو سانس لینے میں شدید دشوراری کا سامنا تھا۔ ان کو ہسپتال میں بہتر علاج کی ضرورت تھی ، مریضہ خود تعلیم یافتہ تھی ان کو کرونا کے بارے میں معلوم تھا مگر وہ گھر والوں کی ناراضگی اور ضد کی وجہ سے مجبور تھی ۔ مریضہ نے بہت کرب نا ک حالت میں زندگی کی بازی ہار دی ۔ رات کو ان کو تکلیف بہت زیادہ ہوئی صبح ان کا انتقال ہوا۔ ان کو اسی حالت میں ہسپتال لے گیا وہاں پر ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں کو بتایاگیاکہ مریضہ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔ بیس دن سے بیماری اور کرونا کے باوجو د ایمرجنسی میں پھر بھی ان کے مرض کو چھپایاگیا۔ ڈاکٹروں نے اس کی انتقال کی تصدیق کی اور میت کو رثاء کے حوالہ کردیاگیا۔ بعدمیں کسی طرح محکمہ صحت کے اہلکاروں کو معلوم ہوا کہ یہ کرونا کی مریضہ تھی ۔ جوان خاتون کی موت کے بعد گھر میں تمام افراد کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا۔ کرونا سے بچاؤ کا سپرے کیا گیا۔ گھر کے دیگر پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ۔ یہ ان سینکڑوں کرونا کے بیماروں میں سے ایک ہے جہاں پر معاشرے میں لاپرواہی ، احساس نہ ہونے اور میڈیا کے زیر اثر رہنے والے ایک گھر کے لوگوں نے رویہ اختیار کیا۔

میں خود ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں لیکن ابتداء سے میں بھی کورونا وائرس کو مذاق ہی سمجھ رہی تھی۔ مگرپھر جب میرے بہت ہی قریب کچھ دوست اس وائرس سے متاثر ہوئے ۔ تو پھر میں اس وائرس سے خوفزدہ ہوگئی اور میں نے لوگوں سے میل جول بالکل ختم کردیا ۔یونیورسٹی اف سوات میں بطور لیکچرر کام کرنی والی کومل نے کہا کہ پچھلے پانچ مہینوں سے زندگی جیسے روک گئی ہے۔ سرکاری اور نجی ،تعلیمی ادارے بند ہے ، نہ کوئی کہیں جا سکتا ہے اگرجانا چاہے بھی تو ڈر اور خوف کی وجہ سے علیک سلیگ نہیں کیاجاسکتا۔کیوں کہ ایک ساتھ رہنے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتاہے ۔وہ کہتی ہے کہ جب میں ایک پڑھی لکھی ہونے کی باجود اس وائرس کو نہیں مانتی تھی ۔ توان لوگوں کی کیا رائے ہوگی جن کو کرونا بارے علم زیادہ نہیں ہے۔

کومل نے کہا کہ جب کورونا وائرس پاکستان میں آیا ۔ تو اس حوالے سے بہت ساری افواہیں بھی گردش کرنے لگی ۔گرمی میں یہ وائرس ختم ہوجائے گا ۔ عام لوگ بھی انہیں افواہوں کو آگے پھیلانے میں لگ گئے۔ کسی نے کہا قہوہ چائے اس کا علاج ہے کوئی کہہ رہا تھا کہ ادرک اور دار چینی کی چائے کا استعمال زیادہ کریں۔ توکسی نے ثنامکی نامی پودے کے پتوں کو اس وایرس سے محفوظ رہنے کے لئے مفید قرار دیاتھا۔ اس طرح ہرکسی نے اپنے طور پر کرونا وائرس سے بچاؤکے ٹوٹکے بتانا اپنا فرض سمجھ لیا۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

کرونا کے زیر اثرا عام لوگوں پر نفسیاتی اثرات بارے ماہر نفسیات وگمہ فیروز کا کہنا کہ کورونا وائرس کی تصدیق ہوجانے کے بعد لوگوں میں خوف بہت بڑھ جاتاہے ۔ اس وقت وہ بہت ہی زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں۔انکی ذہنوں میں ایک عجیب سا خوف اور ڈر بیٹھ جاتا ہے اور پھر ایسی قدرتی آفات یا وبائی امراض کا ، ذہنی صحت پہ بہت زیادہ اثرانداز ہوتے ہے۔خاص کر ان حالات میں جس میں خود کو بچاؤ صرف تنہائی میں رکھنا ہوتاہے۔ تنہائی میں رہنے اور خوف کی ماحول میں کئی نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس وقت تقریباً دنیا بیشتر ممالک میں کرونا وائرس پھیل چکاہے ۔ اس سے لاکھوں جوکہ کروڑں تک پہنچ چکے ہیں لوگ متاثرہیں۔ جبکہ ابھی تک اس وائرس کا مستند علاج بھی سامنے نہیں آیاہے۔ اس وجہ سے مریض میں شدید ذہنی تناؤ اور ڈپریشن شروع ہوجاتاہے ۔ اس سے مریض میں دیگرمزید ذہنی و جسمانی پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جس سے مریض کی قوت مدافعت پر اثر ہوتاہے۔جبکہ اس دباؤ کو میڈیا کی طرف سے مسلسل دی جانے والی جھوٹی اور سچی خبریں مزید بڑھادیتے ہیں۔ عام لوگ جوکہ کرونا وائرس کے مریض بھی نہیں ہوتے مسلسل وائرس کے بارے میں خبریں اور ذکر سے ان میں چڑچڑاپن، جھگڑا ، غصہ اور غیر معمولی اندیشے پیدا ہوجاتے ہیں ۔

ذہنی دباؤ کے علامات میں بھوک میں کمی یا بالکل نہ لگنا، شدید تھکن کا حساس ، سر اورجسم میں درد رہنا،دل کی دھڑکن میں تیزی،نیند میں کمی ، اچانک گھبراہٹ طاری ہونا،بے چینی محسوس کرنا شامل ہے۔ان پریشانیوں کا بہت سے لوگوں کو سامناہے۔
وگمہ نے کہا کہ ’قرنطینہ اور آئسولیشن میں ایسے گھٹن اور دباؤ جیسا ماحول ہوتا ہے ، تو اس میں کرونا سے متاثر لوگوں کے دوست احباب اور انکے اہلخانہ کو چاہیں کہ انکا حوصلہ بڑھائیں اور انھیں بدنام نہ کریں۔کہ فلاں کو کرونا ہوا ہے ،بلکہ انہیں یہ بتائیں کہ یہ اج کل عام بیماری کی طرح ہے ہمیں بھی لگ سکتی ہے۔ اور بتائیں انکو کہ ہم اپکے ساتھ ہے کوئی مشکل نہیں ہے ،بس انکو ہمت دیں اور کہے کہ وہ ہمت اور علاج کے ساتھ اس بیماری سے جیت سکتے ہیں،

میمونہ جسکا تعلق ضلع سوات کے تحصیل مٹہ سے ہے ، اور وہ ایک پرایؤٹ سکول میں ٹیچر ہے ۔وہ بتاتی ہے کہ جب میری امی کرونا وائرس کی شکار ہوئی تو ان کی حالت بہت عجیب ہوگئی تھی ۔سینے میں درد تھا، کھانسی شروع ہو گئی ، بخار ہوا ، وہ شوگر کی بیماری میں پہلے سے مبتلاتھی۔ ان کو مسلسل بخار تھا اور کانسی سے ان کے سینے میں تکلیف بہت زیادہ تھی ۔ اس وقت گھر کے دیگر افراد دوسرے علاقے منتقل ہوگئے۔ ہم دو بہنیں اور میرا بھائی رہ گیا۔ ہماری تو امی تھی ہم تو انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔ مگر گھرے کے دیگرافرادکے روئے پر ہمیں افسوس ہوا۔  میمونہ کہتی ہے کہ میری امی کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ وہکچھ کھا نہیں سکتی تھی۔ امی کو ڈر بھی لگ رہاتھا بار بار کہتی تھی کہ کہیں مجھے کرونا نہ ہوا ہوں ۔ہمیں معلوم تھا کہ امی کو کرونا کی بیماری میں مبتلا ہے۔ مگر ہم امی کو کہتے تھے کہ نہیں وہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اس میں بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہے ۔انہی باتوں سے ہم انکا دل بہلاتے تھے،تاکہ انکے ذہن میں کرونا کا خیال نہ آئیں ۔ اج کل میڈیا بھی بہت کچھ دکھا رہا ہے کرونا کے بارے میں اس سے بھی لوگ ذہنی طور پرع بہت متاثڑ ہو رہے ہیں ٹی وی کم سے کم دیکھیں اوربار بار خبریں نہ سنیں،

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

میمونہ نے بتایا کہ ڈر کی وجہ سے انکو ہسپتال نہیں لیکر گئے۔ کہ مبادا اگر کرونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ ہمیں ڈر تھا اللہ نہ کریں ہماری امی کو خوف کی وجہ سے کچھ نہ ہوجائیں۔ اس وجہ سے ہم نے انہیں احتیاط کے لئے گھر میں ہی ایسولیشن میں رکھا ۔ تین روزکے بعد امی بہترمحسوس کرنی لگی ۔ایک ہفتہ انہوں نے کمرے میں گزار دیا کسی سے بھی نہیں ملی ۔ پھر دن بدن انکی صحت بہترہوتی گئی ۔
ہم نے اس دوران اپنے گھر کے دروازے کو بند کردیا تھا۔ بالکل لاک کردیا تھا ۔جسکی وجہ سے ہمارے بہت سے رشتہ دار ہم سے ناراض ہوگئے کہ اپ لوگ نہیں چاہتے کہ کوئی آپکے گھر آئیں۔ جب ہم انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے تھے تو وہ الٹا ہمیں باتیں سنادیتے تھے ۔ میمونہ نے کہاکہ جب امی کرونا وائرس سے متاثر ہوئی۔ تو پھر ہمارے محلے میں وہ خواتین جو کرونا وائرس کو بالکل ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔ کو کرونا وائرس بھی کوئی بیماری ہے ،ان کو بھی بعدمیں یقین ہوگیا ۔کہ ہاں یہ بیماری موجود ہے اور یہ سچ ہے اسکے بعد انہوں نے بھی وہ سارے حفاظتی اقدامات کرنے شروع کئیں۔


NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Facebook