چھوٹے سطح پر کام کرنے والے خواتین کی محنت کا ثمر دوسرے کھا جاتے ہیں

0
103
swat
swat1
بابا کے موت نے مجھے بے آسرا کرددیا ہے ، میرے والد کے انتقال کے بعد ہمارا اللہ کے سیوا کوئی نہیں تھا جو ہمارا سہارا بنتا،ہمارا واحد سہارا میرے بابا تھے اور انکے بعد صرف اللہ،مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا میں ہمیشہ یہی سوچ کر پڑھائی دل لگا کرتی تھی کہ میں ڈاکٹر بنوگی

یہ ہے پچیس سالہ فاطمہ ، جو کہتی ہے کہ میٹرک کے بعد بابا کا نتقال ہوا تو ہمارا گھر ویران ہوگیا کیونکہ والد زندہ تھے تو ہمیں کوئی فکر کوئی غم نہیں تھا والد کے وفات کے بعد ماں اور دو چھوٹے بہن بھائی میرے ذمہ داری میں آگئے ۔ میں نے گھر کا خرچہ بھی چلاناتھا اور چھوٹے بہن اور بھائی کی تعلیم کی ذمہ داری بھی اٹھانے کا بیڑا سر پر لے لیا۔  فاطمہ نے مزید بتایا کہ میں نے بہت مشکلوں سے بارویں جماعت تک پڑھائی جاری رکھی پھرمالی مشکلات اور ذمہ داریوں کی وجہ سے تعلیم کو چھوڑنا پڑا۔میں نے خود فیصلہ کی اب مزید میرماں دوسروں کے گھروں میں کام نہیں کریگی اور میں ہی اپنے گھر کے تمام اخراجات پوری کرنے کے لئے محنت کرونگی ۔

ہمارے گھر سے تھوڑاے فاصلے پر دستکاری کا سنٹر تھا۔ جس میں ہمارے علاقے کے خواتین کو مختلف ہاتھوں سے بنا نے والی چیزیں سکھائی جاتے تھے ۔ میں نے دستکاری سکول میں باقاعدہ داخلہ لیا ایک سال میں میں تربیت کے دوران میں نے بہت کچھ سیکھ لیا۔ جس میں سوئٹرز، کپڑوں کی سلائی،اون اور دھاگوں سے مختلف ڈیکوریشن اشیاء بنانے کا ہنر حاصل کیا۔ جب میں نے تربیت مکمل کی اور اشیاء بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی تو اسی سنٹر میں مجھے مختلف اشیاء بنانے کا کام سونپ دیاگیا۔ اس کسے ساتھ ساتھ میں نے دیگر خواتین کو بھی دستکاری سیکھانے کا کام بھی شروع کیا۔اس سے مجھے ماہانہ کچھ امدن شروع ہوئی جس سے مجھے تھوڑا بہت سہارا مل گیا اس وقت مجھے سات ہزارروپے ماہانہ رقم ملتی تھی جوکہ گھر کو چلانے کے لئے بہت کم تھی ۔کیونکہ گھر کے اخراجات زیادہ ہے ۔ بہن بھائیوں کے پڑھائی کے اخراجات الگ تھے ۔پھربھی میں کچھ بچت کرکے قسطوں پر سلائی مشین لینے کا فیصلہ کرلیا۔جس پھر میں نے گھر میں سلائی کاکام شروع کردیا، دستکاری سنڑسے واپس کر محلے اور رشتہ داروں کے کپڑے بنانے کا کام شروع کیا۔اس طرح بازار میرا ارادہ تھا کہ کچھ بچت کرکے سوئٹرز وغیر ہ بھی بنانے کا کام شروع کرو اور دستکاری کے اشیاء بازار میں فروخت کروں مگر میرے اخراجا ت زیادہ ہے ۔ جس کی وجہ سے اپنے کام کو مزید وسعت نہ دے سکی ۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

پینتالیس سالہ بیگم جس کا تعلق مینگورہ امانکوٹ سے ہے اور بہت عرصے سے دستکاری کے کام سے وابسطہ ہے ۔کہتی ہے کہ چودہ سال پہلے جب میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تو گھر میں کمانے والا کوئی نہیں تھا ۔ میں نے اپنی زندگی تب سے اس کام کے لے وقف کردی ہے اور اس سے میرے گھر کا گزارہوتا ہے اور گھر کا چولہا جلانے کیلئے خود محنت کرتی ہوں۔دستکاری سے جومعاوضہ ملتا ہے ،وہ کافی حدتک میرے اور گھر کے دیگر افراد کا خرچہ ہوتاہے ۔گھر میں ایک بیٹا اسکی بیوی اورتین بچے ہیں ،بیٹا محنت مزدوری کرتا ہے مگر دیہاڑی کا کام کھبی ہوتا ہے کھبی نہیں میں نے اپنی پوری زندگی میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اس کاروبار میں اپنے بیٹے کی شادی بھی کرائی ہے ۔ بیگم کہتی ہے کہ وہ ،بیڈ شیٹس ،کوشن کورز ،کپڑوں اور چادروں وغیرہ پہ کڑھائی اور اسکے ساتھ ساتھ کروشیئے سے بھی مختلف اشیاء بنواتی ہیں ،وہ کہتی ہے کہ جب سردیوں کے موسم میں کام بہت زیادہ ہوتاہے اورمیں خوب محنت کرتی ہوں۔ کام سے ایک لمحے کے لئے بھی سر نہیں اٹھا تی ۔کیونکہ لوگ سردیوں میں بچوں اور بڑوں کے لئے سوئٹرز بنوانے میرے پاس آتے ہیں۔گرم شال پہ کڑھائی بھی کی جاتی ہے ۔ اس طرح گرمیوں میں بھی کپڑوں اور خواتین کے لئے مخصوص چادروں پر ہاتھ سے کڑھائی کرتی ہوں۔ ہمار کام لوگ بہت پسند کرتے ہیں ۔ شادی بہا کے لئے لوگ خصوصی طور پر آڈر دیتے ہیں جن کے لئے میں تمام کمرے کے لئے باقاعدہ سیٹ تیارکرتی ہوں ۔

بیگم نے مزید بتایا کہ کھبی کھبی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرے پاس کھبی کھبی رقم ختم ہوجاتی ہے تو مقامی دکاندروں سی ادھار کپڑا اور تار لے کر آتی ہوں ۔مگر جب مجھے زیادہ تار اور کپڑا لانا ہوتا ہیں اسکے لئے میں لاہور جاتی ہوں اور وہاں سے مجھے لانا ہوتا ہے ۔ لاہور میں خام مال اچھی کوالٹی کی اور کم قیمت میں مل جاتی ہے ۔ لیکن اس کے لئے نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔جس کے لئے اکثرمیں اپنے رشتہ داروں سے قرضہ لیتی ہوں۔جن مصنوعات کو میں تیارکرتی ہوں جب وہ مقامی دکانداروں کی فروخت کرتی ہوں تومنافع کم ملتاہے ۔ انہی چیزوں کو میں مختلف گھروں کو سپلائی کرتی ہوں تو منافع بڑھ جاتاہے ۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

گھرمیں چھوٹی سطح پر کاروبار کرنی والی بیگم کا مزید کہناہے کہ ہم غریب ہے اور چھوٹے پیمانے پر محنت کرنے والے ہیں ۔مجھ جیسے بہت سے خواتین یہی سلائی کڑھائی کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور انہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے سلائی ، کڑھائی ،لباس ، شالیں اور دیگر اشیاء بناتے ہیں ان کو بہت کم معاوضہ ملتاہے ۔ محنت بہت زیادہ کی جاتی ہیں۔ اگر حکومت اس طرح محنت کش خواتین کو بلا سود قرضے ر فراہم کریں توان خواتیں میں اتنا ہنر ہے اور انکے ہاتھوں میں ایسا جادو ہے کہ وہ کپڑوں پرانتہائی صفائی کے ساتھ کام کرسکتی ہے ۔ ہاتھ کے کروشیئے سے جو مصنوعات بنائی جاتی ہے ۔اس سے کسی کو ئی شک نہیں پڑتا کہ یہ عام خواتین نے ہاتھوں سے بنائی بلکہ وہ انتہائی معیاری اور پروفیشنل لگتے ہیں۔سوات کے خواتیں گھروں میں کام کرکے معاشی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔اگران کو مواقع فراہم کیئے جائیں۔حکومت ان کے لئے وسائل دیں ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کو آگے جانے کے مواقع فراہم کریں۔

مینگورہ بازار میں ہاتھ سے بنائی ہوئی اشیا ء فروخت کرنے والے دکاندار رضوان خان کا کہناہے کہ ’کروشیئے کے زریعے ہاتھ سے بنی ہوئی مصنوعات کی مانگ بہت زیادہ ہے ۔ خاص کر سوات میں جب سیاح اور دیگر شہروں سے لوگ آتے ہیں۔ تویہ مصنوعات بہت پسند کرتے ہیں اور منہ مانگے قیمت پر خرید لیتے ہیں ۔‘ انہوں نے بتایا کہ موسم سرما میں کروشیئے سے بنے سوئیٹر، شالیں اور بچوں کے ملبوسات کافی تعداد میں فروخت ہوتے ہیں جبکہ عام دنوں میں لوگ گھریلو استعمال اور سجاوٹ کی اشیا خریدتے ہی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اپ ان اشیاء کو کتنے قیمتوں میں خریدتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ ہم اشیاء کو دیکھتے ہیں اسکے کام کو دیکھتے ہیں جو ہمیں فائدہ میں ملتا ہے اور ہمیں معلوم ہوں کہ اچھی قیمت فروخت ہوگی تب ہم گھروں میں بنانے والے خواتین سے یہ اشیاء خرید لیتے ہیں۔ رضوان نے بتایا کہ ضلع سوات میں ایسے بہت سارے خواتین ہے جو ہمارے لئے مستقل کام کرتی ہیں۔ہم ان کو مصنوعات تیارکرنے والے خام مال فراہم کرتے ہیں۔ مال بنانے کے بعد ان کو مناسب معاوضہ دیتے ہیں۔

سوات میں خواتین کے لئے دستکاری سنٹر چلانے والی رخسانہ جہانگیر کہتی ہیں کہ سوات کے خواتیں میں ہنر کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ محنت کش بھی زیادہ ہے ۔ ان کا کام پاکستان اور باہر ممالک میں بہت پسند کیا جاتا ہیں ۔ مگر زیادہ تر محنت کش اور ہنر مند خواتین کو وسائل کی کمی کا سامناہے ۔ہم اپنے سنٹرمیں خواتین کوتربیت دیتے ہیں ۔ ان کو چھوٹے کاروبار کرنے کی بھی طریقے بتاتے ہیں۔مگر ہمار سنٹربہت چھوٹاہے ۔ جبکہ خواتین کی تعدا د بہت زیادہ ہے ۔ اس کے لئے ایک بہتر اور بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔اگر سوات کے باہمت اور ہنر خواتین سے اچھے طریقے سے کام لیاجائیں تو ان کی بنائی ہوئی مصنوعات نہ صرف پاکستان کے بڑی مارکیٹ میں جگہ بناسکتی ہے بلکہ بین الاقوامی منڈی میں بھی اچھی داموں یہ مصنوعات فروخت کی جاسکتی ہے جس سے ایک طرف ملک کو کثیر زرمبادلہ مل جائیگا۔ تو دوسرے طرف ان محنت کش خواتین کو اپنے محنت کا درست معاوضہ مل سکے گا جس سے ان کی معیارزندگی بڑھ جائیگی۔اس طرح یہ محنت کش خواتین بہترزندگی گزار سکی گی اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھرانے بھی خوشحالی کے طرف گامزن ہوجائینگے ۔رخسانہ کاکہناہے کہ جو معاوضہ ان کو ان کے محنت کے بدولت ملتاہے وہ بہت کم ہے جس سے ان کا گزرا بڑی مشکل سے ہوتاہے ۔

ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کے لئے یہاں کلک کریں

ضلع سوات میں اس وقت حکومت سے منظور شدہ گیارہ دستکاری سنٹرزباقاعدگی سے کام کرتی ہے ۔ جس میں ایک سال اور چھ مہینوں کا تربیتی ڈپلومہ کیا جاتا ہے ۔ ،ان سنٹروں میں مقامی خواتین اور نوجوان لڑکیاں دستکاری کے تربیت لیتی ہے جوکہ بعدمیں اپنے گھروں میں مصنوعات تیارکرتی ہے اس طرح ہزاروں گھروں میں بچیاں اپنے بڑوں سے بھی دستکاری اور دیگر مصنوعات سیکھتے ہیں ۔  سوشل ویلفیرڈیپارٹمنٹ سوات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نصرت کا کہنا ہے کہ سوات میں پچاس فیصد سے زیادہ خواتیں دستکاری کی صنعت سے وابسطہ ہے ۔ہر سال تین سو سے زائد خواتین سوات میں قائم مختلف سنٹروں سے تربیتی ڈپلومہ حاصل کرتے ہیں۔اس طرح ہمارے ادراے کے طرف سے بھی تربیت دی جاتی ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ گھروں میں چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے خواتین کی رہنمائی کے لئے حکومت کے پاس کیا پالیسی ہے تو انہوں کہاکہ اس بارے میں معلوم نہیں کہ انکے لئے کوئی قانون یا پایسی ہے کہ نہیں ،مگر ہم اپنے طور پر کوشش کرتے ہیں کہ سوات کے ہنرمند خواتین کی رہنمائی کریں ہم ان کو سلائی مشین اور دیگر اشیاء بھی فراہم کرتے ہیں اس طرح بے روزگار اور حالات سے ستائے ہوئے خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑاکرنے کے لئے ہرقسم مددفراہم کرتے ہیں تاکہ یہ خواتین باعزت طریقے سے اپنے گھر کا چولہا چلاسکیں،


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here