چترال کے معروف تاجر اور سماجی کارکن صاد ق امین حرکت قلب بند ہونے سے انتقال

0
68

چترال سے تعلق رکھنے والے معروف تاجر اور پشاور میں اسلام آباد (چترالی) بازار کے سابق صدر صادق امین پشاور کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ صادق امین مرحوم کے حاندانی ذرائع کے مطابق ان کو عرضہ قلب لاحق ہوا تھا اور اسے ہسپتال لایا گیا جہاں ان کا انتقال ہوا۔

چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی کے مطابق مرحوم صادق امین کے قریبی رشتہ دار پیر مختار علی شاہ نے پشاور کے اسی ہسپتال سے اپنے ویڈیو پیغام میں میڈیا کو بتایا کہ صادق امین کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے ہوا ہے ان کو کرونا وائریس کی بیماری لاحق ہوئی ہی نہیں تھی نہ ہی ان کو کبھی کرونا وائریس کی شکایت ہوئی تھی۔ وہ دل کے مریض تھے اور ان کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور لایا گیا جہاں وہ جانبرد نہ ہوسکے۔ پیر مختار کے مطابق ہسپتال کا عملہ اسے کرونا کا مریض قرار دیتے ہوئے ان کو زبردستی دفنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ پیرمختار نے بتایا کہ یہ زیادتی ہے اور صادق امین کے عوامی خدمات پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور محکمہ صحت کے ارباب احتیار سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ صاد ق امین کا لیبارٹری ٹیسٹ کروایا جائے اگر انہیں کرونا وائریس کی بیماری لاحق ہوئی تھی اور اس میں اثرات ہو تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر بغیر ٹیسٹ اور تحقیق کو عام مریض کو کرونا کے کیس میں ڈالنا بے انصافی ہے اور صادق امین اس طرح بے قدری سے سپرد خاک کیا جائے گا۔


دریں اثناء پیر مختار سے ابھی ہمارے نمائندے کا رابطہ ہوا جنہوں نے بتایا کہ وہ دل کا بھی مریض تھے اور ان کا بلڈ پریشر بھی تھا طبیعت حراب ہونے پر انہیں LRH ہسپتال لایا گیا جہاں ان کا ٹیسٹ بھی لیا گی ابھی وہ ٹیسٹ خیبر میڈیکل یونیورسٹی پہنچا بھی نہیں کہ ان کا ایک گھنٹے کے اندر انتقال ہوا۔ جس پر ہسپتال کا عملہ ان کو سپرد خاک کرنا چاہتے تھے مگر چترال سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں لوگ ہسپتال میں جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے زبردستی سپرد خاک ہونے نہیں دیا۔ تاہم ہسپتال عملہ کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ طے پایا گیا کہ صاد ق امین کا دوبارہ ٹیسٹ لیا گیا اور اس کا رزلٹ جمعرات کے دن گیارہ بجے تک لیبارٹری سے موصول ہوگا۔ اگر ٹیسٹ نیگٹیو آیا تو پھر صاد ق امین کو باعزت طریقے سے چترال لاکر اپنے آبائی گاؤں میں نمازجنازہ پ ڑھنے کے بعد سپر د خاک کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here