نیا اسلام آباد ائیرپورٹ کس تھانے کی حدود میں ہے ؟

0
63

عورت کو غیرت کے نام پہ مارنے والے، عورت کو شرم سے نہ مرنے دیں۔

میں پاکستان کے دارالحکومت یعنی اسلام آبا د میں رہتی ہوں۔ ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے غالبا گزشتہ جمعرات کی رات دو بجے ہونگے۔میری اسلام آباد سے کراچی کے لیے پرواز تھی،فلائٹ ٹائمنگ علی الصبح تھی۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں سے ذکر کیا کہ مجھے ائیرپورٹ پہنچا ہے تو پتا چلا کہ ہمارے ایک ساتھی نے بیلاروس جانا ہے، ان کی اور میری پرواز میں دو گھنٹے کا وقت فرق ہے۔
آخر طے ہوا کہ میں اور میرے دوست اکٹھے ایئرپورٹ جائیں گے۔ جبکہ میری گاڑی ہمارے تیسرے ساتھی کے سپرد کی جائے گی۔ اور شاید میرا یہ فیصلہ میری گاڑی کو پسند نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے ہاتھوں سے چلے۔۔ اتفاق سے میری گاڑی ایئرپورٹ کے داخلی دروازے کے باہر بند ہوگئ- اور بند بھی ایسا ہوئی کہ پھر دوبارہ نہیں چلی۔
ارے, یہ تو بتایا ہی نہیں کہ میں ایک لڑکی ہوں میرا پیشہ صحافت ہے، دن رات کام کی عادت ہے مجھے۔۔۔ باقی صحافیوں کی طرح۔ خیر، کسی نہ کسی طرح گاڑی کو دھکا لگا کر ہم نے ایک طرف کھڑا کیا کہ جانچ پڑتال کریں کہ یہ کیوں رک گئی جبکہ بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا۔

گھڑی پر نظر ڈالی تو رات کے دو بج کر تیرہ منٹ ہوئے تھے اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے فیصلہ کرنا ہے کہ مجھے گاڑی یا جہاز کس کا “سفر” کرنا ہے۔ یہ سفر دونوں صورتوں میں سفر ہی تھا خواہ آپ انگریزی میں پڑھے یا اردو میں۔۔۔

چلیں کسی طرح لفٹ لے کر ہم نے اپنے بیلاروس جانے والے ساتھی کو نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا اور اپنی گاڑی کو چلانے اور میکینک کو بلانے کی تگ و دو شروع کر دی۔
جب ہم گاڑی کے نہ چلنے پہ رازی ہو گئے تو ایک لمحے کو خیال آیا کہ موٹر وے پولیس یا اسلام آباد پولیس کی مدد لیتے ہیں۔ بس یہ سوچ آنے کی دیر تھی اور میں نے 15 پہ کال ملائی۔ اگلی آنے والی آواز تمام احساسات اور غصہ کے جذبات کو ابھارنے کے لیے کافی تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “آپ کا موجودہ نمبر کسی کے استعمال میں نہیں کال انکوئری” 1217″ فار اسسٹنٹس”۔

مجھے لگا میرے کان غلط سن رہے ہیں، پھر نمبر ملایا۔۔۔ پھر سے وہی میسیج دوہرایا گیا اور ایسا کئی بار کیا ہو گا۔

اس کے بعد باری آئی اسلام آباد ٹریفک پولیس کی ہیلپ لائین 1915یا 915 کی ۔۔۔۔اتفاق کہیے یا میری قسمت۔۔۔ یا فون کی گھٹیا سروس۔ نمبر نہیں ملا۔ شاید میرا فون ہی خراب ہو۔

ائیرپورٹ کے داخلی دروازے کے قریب گاڈر سے پوچھا اس جگہ کو کون سا تھانہ لگتا ہے؟ جواب ملا شاید “گولڑہ”… اس بات کو مذاق سمجھ کہ میں غصہ پی گئیں۔ میرے موبائل پر آئی جیز سے لیکر تھانے کے تمام مححرروں کے نمبر موجود تھے لیکن رات کے اس پہر کس کو کال کروں؟ سمجھ نہیں پا رہیں تھیں۔۔۔ لیکن ڈرتے ڈرتے اپنی سہیلی کو جو اسلام آباد میں ایس ایج او ویمن تھانہ رہ چکی ہیں، معذرت کے ساتھ میں نے جگا دیا۔ صورتحال بتائی اور اپنی گزارش بھی۔ جواب ملا “صوفیہ اس وقت اپنی گاڑی لے کر کیوں گئی ” ؟
اس لمحے وہ مجھے میری سہیلی کم اور سی سی پی او پنجاب پولیس عمر شیخ زیادہ لگی تھی۔۔۔جن کے خیال میں “خواتین کو رات کو گاڑی لے کر نہیں نکلنا چاہیے کیونکہ حادثے کی صورت میں زمہ دار وہ خود ہی ہوتیں ہیں “

میری سہیلی نے دوستی کا پورا حق ادا کیا اور ساتھ ہی دوچار مشورے بھی دیے کہ آئندہ مجھے کیا کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

میرا مسئلہ، ابھی بھی ویسے ہی موجود تھا، اور وہ تھا اسلام آباد پولیس مدد لینا تھا۔۔۔۔ کیوں کہ پانچ سال میں نے خود ITP Radio 92.4 ریڈیو کے ذریعے لوگوں کو بتایا تھا کہ گاڑی خراب ہو جائے تو اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ایک یونٹ شہریوں کی مدد کے لیے چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے۔

مجھے ڈر ہے کہ میرے قارئین اپنی دل چسپی نہ کھو دیں۔۔ قصہ مختصر کرتے ہیں۔
میں ہیلپ لائین ملانے میں ناکام رہیں۔۔ اب میں نے اپنے جغرافیہ سے اندازہ لگایا کہ اگر اس بین الاقوامی ہوائی اڈے میں اسلام آباد پولیس کی ایک چوکی ہے تو یہ اڈاہ کس تھانے کو لگتا ہو گا ؟ پہلی کال شمس تھانے کے لینڈ لائن پر ملائی، جہاں سے ائیرپورٹ کے حدود کا تعین نہیں ہو پایا۔ دوسری کال تھانہ ٹیکسلا ملائی جواب ملا نیا ائیرپورٹ ہماری حدود میں نہیں ہے شاید اسلام آباد ترنول تھانے لگتا ہے۔ ترنول تھانے میں موجود ڈیوٹی آفیسر کچھ رحم دل بھی تھا، کچھ پرانی سلام دعا بھی نکل آئی اور انھوں نے مجھے اپنی ذاتی گاڑی سے گھر بھیجنے پر خلوص دعوت بھی دی۔ جس پر میں انکی مشکور ہوں۔ لیکن وہ بھی مجھے بتا نہیں پائے کے نیا اسلام آباد ائیرپورٹ کہاں ہے ؟
میں اپنا غصہ اسلام آباد پولیس پہ نکالنا چاہتی تھی لیکن اس وقت مجھے گھر واپس پہنچنا تھا۔ اپنےدوست کی خواری کا احساس بھی تھا۔ اس لیے اپنے اندد کی “صحافتی بدمعاشی” کو باہر نہیں آنے دیا۔ کسی نہ کسی طرح ہم نے اپنی گاڑی دوسری گاڑی سے باندھی اور ورک شاپ کھڑی کر دی۔

پولیس ہیلپ لائین اور نئے ائیرپورٹ کی حدود کی تلاش میں سورج نے نمودار ہونے کے لیے کروٹیں بدلنا شروع کر دی تھی۔پہلی فرصت میں ایک Tweet بھی کر دیا، جس میں اسلام آباد پولیس سے سوال تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟

اب آتے ہیں موضوع پہ، اگر میں اس رات اکیلی ہوتیں؟ تو یہ سب کیسا
ہوتا؟۔ نہیں، نہیں،
موٹروے کے قریب گجر پورہ جیسا “سفر” جو ایک خاتون نے اپنے بچوں کے ساتھ سہا؟ کیا میں بھی ری۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں صاحب!!!!نہیں۔ اتنا قلم اور ذہہن دونوں لکھنے گوارا نہیں کرتے۔

مجھے تھانے کی حدود کا تعین کرنے والا نہ بنائیں۔ مجھے تو ایک ہیلپ لائین چاہیے۔ جس پر کال ملتے ہی تمام مدد گار ادارے اپنے رابطے تیز کریں، حرکت کریں اور کسی “ثناء” کو اسکے بچوں کے سامنے ریپ نہ ہونے دیں۔ کسی” زینب”کو سسکیوں میں نہ سونے دیں۔ عورت کیا کسی مرد کو بھی نہ لٹنے دیں۔ “عورت تو بدکردار بھی ہو سکتی ہے ” اس کا لباس بھی نا مناسب ہو سکتا ہے۔اور وہ آوارہ بھی ہو سکتی یے۔ لیکن بس اتنا چاہتیں ہوں کہ آپ مجھے غیرت کے نام مارنے سے پہلے شرم سے نہ مرنے دیں۔ ایک کال، جس میں میں شکایت کر کسی بھی پولیس اسٹیشن پہ ہو، بس مسئلہ حل کریں نا کہ شکایت کرنے والوں کو کارڈیشن پہ لگا دیں۔ کوئی تو زیرو ہیلپ لائیں ہو۔پولیس اسٹیشن کی حدود ہو نہ ہو بس پولیس مدد کریں۔

۔اس ملک کی عزت بچائیے۔ عورتیں جینا سیکھ ہی جائینگی اگر انھیں مرنے سے بچا لیں تو؟

اور آخر میں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ نئے اسلام آباد ائیرپورٹ کو ضلع راولپنڈی کا تھانہ “فتح جنگ” لگتا ہے۔ خود یاد رکھیں گا کیونکہ کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس کو ٹھیک سے معلوم نہیں۔


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here