خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے…… سول سوسائٹی کا مطالبہ

0
10
خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے...... سول سوسائٹی کا مطالبہ
خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے...... سول سوسائٹی کا مطالبہ

خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے…… سول سوسائٹی کا مطالبہ

گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں سول سوسائٹی کی تنظیموں نے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں خیبرپختونخواہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کے آنے والے مالی سال 2021 – 2020 کے تعلیمی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مزید رقم مختص کی جائے.

سول سوسائٹی کے ممبران کا کہنا تھا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی کی بنیاد اور ضامن ہوتی ہے.

پاکستان میں تعلیم کی بہتری اور بڑھوتری کے حوالے سے جہاں بہت سارے عالمی وعدے کر رکھے ہیں وہیں آئین پاکستان کہ آرٹیکل 25 اے بھی ہر پاکستانی بچے کی مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری حکومت پاکستان پر عائد کرتا ہے جس کے مطابق ریاست پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت لازمی تعلیم مہیا کرے گی. اس کے علاوہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2017 میں ابتدائی و ثانوی مفت تعلیم مہیا کرنے کے حوالے سے قانون سازی بھی کررکھی ہے.

بلو وینز کے پروگرام کوآرڈینیٹر’قمر نسیم نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیم کی صورتحال پر بالعموم اور لڑکیوں کی تعلیم پر بالخصوص منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور خطرہ ہے کہ بہت ساری لڑکیاں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کی بچپن میں شادیاں کر دی جائیں. انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے جس کی وجہ محض کرونا وائرس کا پھیلاؤ نہیں بلکہ سکولوں کا نہ ہونا, اساتذہ کا نہ ہونا اور اسکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے.

لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی رہنما ثناء احمد نے کہا کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے معاشی اور معاشرتی اثرات نے بالخصوص غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے لئے تعلیم تک رسائی کو اور مشکل بنا دیا ہے – لڑکیوں کی

خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے
خیبر پختونخوا کے نئے مالی سال بجٹ کے تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں کوئی کٹوتی نہ کی جائے

اسکولوں میں واپسی اور تعلیم کے جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانا پڑیں گے –

سوشل ایکٹیوسٹ جنت محمود نے کہا کے پاکستان میں 22.8 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں جن کی ایک بڑی تعداد لڑکیوں پر مشتمل ہے اور سکولوں کی بندش سے اس تعداد کے بڑھنے کا خطرہ ہے – حکومت کو آنے والے نئے مالی سال میں خصوصی فنڈز مختص کرنے ساتھ ساتھ خصوصی اقدامات بھی کرنے پڑیں گے تاکہ بچوں کو واپس لانے کو نہیں بنایا جا سکے –

سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندگان نے خیبر پختونخوا حکومت کے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ پچھلے سال حکومت نئے تعلیمی ترقیاتی بجٹ کا 70 فیصد حصہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مختص کیا تھا جو خوش آئند ہے. سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رواں سال بھی تعلیمی ترقیاتی بجٹ کا زیادہ حصہ کی تعلیم بالخصوص ثانوی تعلیم پر خرچ کیا جائے اس میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے.

خیبر پختونخوا کہ مفت لازمی تعلیم کے قانون 2017 کے نفاذ کے قواعد و ضوابط کو فوری طور پر تشکیل دیا جائے تاکہ قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے, سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کی کرونا وائرس کے سلسلے میں کیے جانے والے جوابی اقدامات میں تعلیم کو خصوصی اہمیت دی جائے اور کوشش کی جائے کے تمام لڑکیاں پہلے کی طرح اپنی تعلیم کو دوبارہ بلا تعطل جاری رکھ سکیں.


LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here