بھارتی زرتش کراکا اور علی علیہ السلام

0
54
PicsArt..
PicsArt 06 05 10.51.52

گذشتہ روز عفت رضوی کو سوشل میڈیا پر ڈاکٹر علی شریعتی کی “ہاں دوست ایسا ہی تھا ” کتاب بھیجی تو جواب میں بھی ایک کتاب ہی عنایت کی گئی۔ بھارتی مشہور صحافی اور مصنف ڈی ایف کراکا کی سوانح عمری سے ایک کتاب ترتیب دی گئی ہے نام رکھا گیا ہے “پھر علیؑ آئے ” کراکا آکسفورڈ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے اور عقیدے میں پارسی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی (پارسی زرتشت کے پیروکاروں کو کہتے ہیں۔ عربوں نے ایران فتح کیا تو ان میں سے کچھ مسلمان بن گئے، کچھ نے جزیہ دینا قبول کیا اور باقی (آٹھویں،دسویں صدی عیسوی) ترک وطن کرکے ہندوستان آ گئے)

کتاب کی شروعات پہلی سے پندرہویں صدی تک کچھ مولا علی علیہ السلام کے روضے کی تعمیر سے متعلق تاریخی احوال بیان کیا گیا کہ مولا کا روزضہ 9 بار تعمیر کے مراحل سے گزرا اور اسکے علاوہ کئی مرتبہ اسکی تزیئن و آرائش کی گئی جو کہ آج بھی جاری ہے۔

ہمارے ہماں مسلمانوں کے دو بڑے فرقے ہیں ایک علیؑ کو خلیفہ بلافصل سمجھتا ہے تو دوسرا علیؑ کو چوتھا خلیفہ سمجھتا ہے۔ لیکن ان دونوں فرقوں نے علیؑ کو کتنا سمجھا اس پر رائے دینے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔

ہم مسلمانوں نے محمد رسول للہ کے بھائی علیؑ کو ہائی جیک کر رکھا ہے ۔ ہمیں لگتا ہے ہم ہی علیؑ کے سگے ہیں اور علیؑ کو مدد کیلئے پکارنا صرف ہمارا ہی خاصہ ہے وہ صرف ازن خُدا سے ہماری ہی مدد کو پہنچتے ہیں یا پھر صرف ہماری ہی دعاؤں کو سنتے ہیں (مسلمانوں کا ایک فرقہ علیؑ کو اسطرح پکارنا بھی بدعت و شرک گردانتا ہے) بطور مسلمان اور مولا علی علیہ السلام کو ماننے والے اس کتاب کے پہلے ہی حصہ نے مجھے آسمان سے زمین دے پٹخا ۔ وجہ تھی کہ ہم علیؑ سے محبت تو رکھتے ہیں مگر علی علیہ السلام کی معرفت نہیں رکھتے ،وہ علیؑ جن کے متعلق حضرت عمر کہتے ہیں کہ اگر علیؑ نا ہوتے عمر ہلاک ہو جاتا

کراکا لکھتے ہیں کہ میں کوئی مذہبی آدمی نہیں تھا لیکن میری زندگی میں بارہا ایسے واقعات رونما ہوئے جنھیں میں فراموش نہیں کر سکتا اور میری زندگی میں ہمیشہ علیؑ میرے ساتھ رہے ۔ کراکا جب نجف مولا علیؑ کی تیسری بار زیارت کو پہنچے تو کہتے ہیں کہ اتنا جم غفیر تھا اور اتنی دھکم پیل تھی کہ مجھے اپنی چھاتی میں اچانک کھچاؤ محسوس ہوا، ورید قلب میں جانا پہنچانا تھا درد جوکہ میرے ماہر قلب نے بتایا تھا کہ ختم ہو چکا ہے پھر پلٹ آیا تھا ، یہ ایک شدید درد تھا۔ مجھے پہلو بہ پہلو تیز ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ بلاشبہ یہ عارضہ قلب تھا، میرے اندر قوت مدافعت ہی نہ رہی تھی، میرے اورپر غشی طاری ہونے لگی۔ اچانک مجھے احساس ہوا گویا مجھے کسی مضبوط ہاتھ نے پیچھے سے پکڑ کر آگے دھکیلا اور فی الواقعہ صحن سے اٹھاکر روضے کے اندر پھینک دیا، میں نے ٹھوکر کھائی اور گھٹنوں کے بل گر پڑا، فرش پر پڑےہوئے میں چپلیں اتاریں اور قبل اس کے یہ سوچتا کہ میں کدھر جاؤں مجھے نادیدہ ہاتھوں نے اٹھا لیا، مجھے کھڑا کیا اور حقیقتا اٹھا کر مجھے روضے کے اندر پہنچا دیا، میرا جسم ایسا نہیں کہ آسانی سے اٹھ جائے لیکن کسی نے ایسا کر دکھایا۔ میری آنکھیں جو درد کی وجہ سے بند ہوچکی تھیں، کھل گئیں اور میرے ہاتھ ناطاقتی کے ساتھ پھیل گئے، معجزانہ طور پر اسی لمحے میرا درد کافور ہوگیا اور ہتھیلیاں پھیلا کر کھڑے ہوئے میں بے اختیار یہ الفاظ ادا کیے ، یا علیؑ میں حاضر ہوں۔

اگر آپ ان واقعات کو پڑھیں تو یقینا آپکو خود پر نظر ثانی کا موقع ملے گا کہ ایک زرتشت کی زندگی علیؑ علیؑ کہہ کے گزری اور علیؑ نے بھی اسکو کبھی تنہا نہیں چھوڑا ، آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایسے نہیں بن پائے کہ علیؑ ہمیشہ ہماری پشت پر موجود ہوں اور ہر گرنے والی راہ پر ہمیں تھام کے رکھیں۔

علیؑ علیؑ کرتی اسکی تحریر نے اتنا گہرا اثر کیا کہ میں خود کو انتہائی کم تر انسان سمجھنے لگا ، مجھے محسوس ہوا کہ ہماری زبانوں پر تو علیؑ ہے لیکن ہماری عملی زندگی میں علیؑ نظر نہیں آتے ، مغرب کی نماز پر کچھ یوں حالت تھی کہ میں کوئی دعا نہ مانگ سکا حالانکہ کتاب میں جابجا دعا اور مانگنے سے متعلق لکھا ہوا ہے ، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کس بنا پر اپنے رب کریم سے مانگو ؟ کیا مانگو؟ اور کراکا نے تو تاش کے پتوں سے گُھڑ دوڑ میں جیتنے تک سب ہی مانگا تھا ۔ کافی دیر مضطرب ، پریشان اور بے چین رہنے کے بعد دعا کیلئے اٹھے ہاتھ گرا دیئے۔ میں نے پھر اسی عجیب صورتحال میں ایک بار کوشش کر کے ہاتھ اٹھائے تو عربی کے 3 کلموں پر مشتمل ایک دعا یاد آئی وہی مانگ لی (اَللّهُمَّ عَرِّفْنى نَفْسَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى نَفْسَكَ، لَمْ اَعْرِف نَبِيَّكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى رَسُولَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى رَسُولَكَ، لَمْ اَعْرِفْ حُجَّتَكَ؛ اَللّهُمَّ عَرِّفْنى حُجَّتَكَ، فَاِنَّكَ اِنْ لَمْ تُعَرِّفْنى حُجَّتَكَ، ضَلَلْتُ عَنْ دين)
ترجمہ: بارالٰہا؛ تو مجھے اپنی معرفت(شناخت) عطا کر اس لئے کہ اگر تونے مجھے اپنی معرفت نہیں عطا کی تو مجھے تیرے نبی کی معرفت حاصل نہ ہوگی .خدایا ! تو مجھے اپنے رسول کی معرفت عطا کر اس لئے کہ اگر تونے مجھے اپنے رسول کی معرفت نہیں عطا کی تو مجھے تیرے حجت کی معرفت حاصل نہ ہوگی۔ میرے اللہ: تومجھے اپنی حجت کی معرفت عطا کر کیونکہ اگر تونے مجھے اپنی حجت کی معرفت نہیں عطا کی تو میں اپنے دین ہی سے گمراہ ہوجاوٴوں گا۔

حجت کے بارے میں ایک مشہور حدیث ہے کہ ( لولا الحجۃ لساخت الأرض والسماء،) اگر حجتّ ِخدا کا وجود نہ ہو تو زمین و آسمان تباہ ہو جائیں (اصول کافی: ج1 ص 179، باب أن الأرض لا تخلوا من حجۃ)
ماہ رمضان میں ہی محراب مسجد میں مولا علیؑ کی شہادت ہوئی ، خالق کائنات سے دعا ہے کہ علیؑ کی معرفت عطا فرمائے آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here